اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر امریکا کے خلاف تقریر کی، حکومت نے امریکا کے خلاف قرار داد لانے کی مخالفت کر دی جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ پارلیمنٹ کو وزارت خارجہ سے منظوری لینے کی کیا ضرورت ہے، امریکا نے سات ممالک کو ٹارگٹ کیا ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ رولز کے تحت قرار داد کو پراسس کریں، حکومت اور اپوزیشن مشترکہ طور پر قرار داد لے آئیں۔
شیری مزاری نے کہا کہ حکومت نے امریکا کے اقدام پر کوئی بات تک نہیں کی ہے، اسلام اور امت مسلمہ کا ٹھیکیدار پاکستان بنا پھرتا ہے، اس پر ڈپٹی اسپیکر نے شیریں مزاری کا مائیک بند کر دیا۔
پی پی پی کی ممبر نفیسہ شاہ نے کہا کہ امریکا نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے سات ممالک کو بین کیاہے حکومت وزیر اعظم اور وزارت خارجہ تمام صورت حال پر خاموش ہیں، وزارت خارجہ اس ایوان کو اعتماد میں لے، پانچ گمشدہ افراد اچانک منظر عام پر آ گئے ہیں ان کی بازیابی کس ادارے نے کرائی ہے۔
جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ یورپی ممالک امریکی انتظامیہ کے اقدام پر احتجاج کر رہے ہیں مگر حکومت پاکستان خاموش ہے۔
پی ٹی آئی کی ممبر اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ مجھے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ وہ وزارت خارجہ سے اجازت لے کر ایوان میں بات کریں گے کہ کیا پارلیمنٹ وزارت خارجہ کا ماتحت ادارہ ہے؟ یہ سوالیہ نشان ہے اس بیان کی میں شدید مذمت کرتی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲